بھٹکل 4؍نومبر(ایس او نیوز) ایئر انڈیا ایکسپریس نے منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے برف میں رکھی گئی(chilled) مچھلیاں خلیجی ممالک لے جانے کے لئےکارگو سروس دینے سے انکار کرنے کی وجہ سے مچھلیوں کا ایکسپورٹ بہت ہی زیادہ متاثر ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب 800 روپیہ فی کلو کی مچھلیاں دو سو اور ڈھائی سو میں دستیاب ہورہی ہیں، جس سے گاہکوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پتہ چلا ہے کہ کچھ سال پہلے کارگو میں مچھلیاں لے جاتے وقت اس کے پارسلوں میں سے پانی رِسنے اور اس کی وجہ سے مسافروں کا سامان خراب ہوجانے کے واقعات پیش آنے کے بعد ہوائی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس نےمچھلیوں کے لئے کارگو سروس روک دی تھی۔ اب کورونا لاک ڈاؤن سے بھی مچھلیوں کی درآمدات رک ڈی گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ائیر لائنز کے کارگو لے جانے سے انکار کی وجہ سے فی الحال منگلورو اور اطراف سے مچھلیاں بیرونی ممالک بر آمد (ایکپسورٹ) کرنے کے لئے برف کے ساتھ لاریو ں میں بھر کر انہیں بنگلورو، کوزی کوڈ اور گوا کے ایئر پورٹس پر روانہ کرنا ہوتا ہے۔جہاں سے ایئر انڈیا اور دیگر گلف ممالک کے لئے سروس دینےوالی دوسر ی ہوائی کمپنیاں یہ مچھلیاں کارگو میں لے جاتی ہیں۔مگر ایکسپورٹرس کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا خرچ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور مچھلیوں کی کوالٹی میں بھی فرق آجاتا ہے۔
مچھلیوں کے ایک ایکسپورٹر ’الفرحان سی فوڈ‘کے مالک اسماعیل ہلدیپور نے بتایا کہ :’’یخ بستہ (فروزن ) مچھلیوں کو منگلورو بندرگاہ سے پانی کے جہازوں کے ذریعےبیرونی ممالک بھیجا جاتا ہے ، جبکہ برف میں رکھی ہوئی( chilled)مچھلیاں اسی دن طیاروں سے بھیجنا ہوتا ہے جس وقت ماہی گیر اپنی شکار کی گئی مچھلیاں کنارے پر لاتے ہیں۔ ایسی حالت میں اکثر و بیشتر آٹھ سے دس گھنٹے کا سفر کرکے مچھلیوں کے ٹرک بنگلورو پہنچنے تک اس میں رکھی گئی برف پگھل کر پانی ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے ان مچھلیوں کی دوبارہ پیکنگ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا بہت سارے ایکسپورٹرس بنگلورو کے بجائے ذرا سی کم دوری پر اقع گوا ایئر پورٹ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
ایکسپورٹرس کا استدلال یہ ہے کہ ماضی میں برف پگھل کر مچھلی کے پانی سے کارگو کے دوسرے سامان خراب ہونے کے ایک دو واقعات کو سامنے رکھ کر ایئر انڈیا کی طرف منگلورو انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے مچھلیوں کے کارگو سروس فراہم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ کیونکہ یہی ہوائی کمپنی تھیرو اننت پورم سے اب بھی مچھلیاں گلف ممالک کے لئے لے جارہی ہے۔ اصل میں ہونا یہ چاہیے کہ ہوائی کمپنیاں مچھلیوں کے وہی پارسل لے جانے سے انکار کریں جن کو ہوائی پارسل پیکنگ کے لئے طے شدہ معیار کےساتھ پیک نہ کیا گیا ہو۔
ایئر انڈیا کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر کے نا م ایک مراسلے میں کینرا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آئزاک وازنے لکھا ہے کہ ’’منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر برف میں رکھی گئی مچھلیاں کارگو میں لےجانے کے لئے قبول کرنے سے ہوائی کمپنی اور تاجروں کے لئے یکساں فائدہ ہوگا۔انہوں نے بتایا ہے کہ ’’مچھلیوں کی پیکنگ لِیک پروف اور واٹر پروف پولی تھین میں ’جیل آئس ‘ کے ساتھ اسٹیرو فوم صندقوں میں کی جاتی ہے اور ’ریڈی ٹو کیاریج ‘ جیسے مناسب لیبل بھی لگائےجاتے ہیں۔ اس لئے ایئر انڈیا کومچھلیوں کے لئےاپنی کارگو سروس منگلورو ایئر پورٹ سے دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔‘‘
یہ سچ ہے کہ ایک طرف مچھلیوں کے بڑے تاجر بہت زیادہ پریشان ہوگئے ہیں مگر دوسری طرف ساحلی علاقے میں مچھلیوں کی قیمت میں بھاری کمی آنے سے مچھلیاں کھانے کے شوقین بہت زیادہ خوش نظر آرہے ہیں ۔بھٹکل سے جیسے شہر میں جہاں تازہ مچھلیوں کی مانگ اپنی انتہا پر ہوتی ہے اور ہمیشہ قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں، وہاں پر لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد سے مچھلیاں بہت ہی کم قیمت پر آسانی کے ساتھ دستیاب ہورہی ہیں۔ یعنی سورمائی (کنگ فش) جیسی مچھلی جو سات آٹھ سو روپے فی کلو ہواکرتی تھی اب وہ دو اور ڈھائی سو روپے میں مل رہی ہے۔اور مانگ بھی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ایک بڑے مچھلی تاجر کے مطابق آج کل روزانہ دو سے تین ہزار کیلوتک مچھلیاں فروخت ہورہی ہیں۔